شیطان و نفس

Published by Al Furqan Healthcare on

0
(0)

شیطان و نفس:
لفظ شیطان، ماده “شطن” سے ہے اور اس کے معنی مخالفت اور دوری ہے، اور ہر باغی و سرکش مخلوق کو شیطان کها جاتا ہے، خواه وه انسانوں میں سے ہو یا جنات و حیوانات میں سے۔
چنانچہ قرآن مجید میں آیا ہے: وکذ لک جعلنا لکل نبی عدوا شیاطین الانس والجن(سوره انعام ،١١٢ ) ” اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جنات و انسان کے شیاطین کو ان کا دشمن قرار دے دیا ہے۔
ابلیس، چونکہ ایک نافرمان ، سرکش اور تخریب کار مخلوق ہے اس لئے اسے شیطان کها جاتا ہے-

شیطان کے ساتھ نفس اماره کا رابطہ:
نفس اماره، حقیقت میں شیطان کے وسائل اور انسان میں نفوذ کر نے والی راہوں میں سے ایک راه ہے اور نفس اماره ، شیطان کے سپاہیوں میں شمار ہو تا ہے –
پس ابلیس کی طرف سے وسواس ، ظاہری شیطان کے عنوان سے ، اور نفس اماره کی خواہش باطنی شیطان کے عنوان سے ، انسان کو زوال سے دو چار کر تے ہیں-
شیطان کی تمام کوششیں یہ ہوتی ہیں کہ انسان گمراه ہو کر حقیقت تک نہ پهنچ جائے اور اسی سلسلہ میں اس نے اللہ سبحان و تعالی کی عزت کی قسم کهائی ہے – جیساکہ قرآن مجید میں ارشاد ہے : ” اس نے کها: تو پهر تیری عزت کی قسم میں سب کو گمراه کروں گا، علاوه تیرے ان بندوں کے جنهیں تونے خالص بنالیا ہے۔
شیطان انسان کو گمراه کر نے کے لئے قدم به قدم آگے بڑهتا ہے اور انسان کو اپنے وسوسوں کے تحت قرار دیتا ہے، یهاں تک کہ انسان خود شیطان بن جاتا ہے اور اس کے ذریعہ دوسرے انسان بهی گمراه کئے جاتے ہیں –
جوانسان، شیطانی وسوسوں کے نتیجہ میں نفسانی اور حیوانی خواہشات کے سامنے ہتهیار ڈالتا ہے وه نفس اماره کے دام میں پهنس جاتا ہے-
نفس اماره منافق کے مانند انسان کے ساتہـ چاپلوسی کرتا ہے اور دوست کے روپ میں پیش آتا ہے تاکہ انسان پر مسلط ہو جائے اور اسے بعد والے مراحل میں داخل کرے۔
شیطان، ضعیف الایمان انسانوں کو واسواس میں گرفتار کر کے ، ان کے نفسانی خواہشات اور شهوانی رجحانات اور نفس اماره کی مدد کر کے ان کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور سر انجام اس کے بدن کے نزدیک آکر اس کے ساتہـ ہاتھـ ملا تا ہے اور اس کا دوست اور رفیق بن جاتا ہے- جس شخص کا دل شیطان کا گهر بن جاتا ہے ، تو وه صرف شیطان کا میز بان ہی نهیں بلکهہاس کا دوست بہی بن جاتا ہے۔
پس شیطان ان کی آنکهوں سے دیکهتا ہے اور ان کی زبانوں سے بولتا ہے

نتیجہ :
شیطان اور نفس امارہ، دونوں انسان کے دشمن هیں ، اسی لئے قرآن مجید نے بهی شیطان کو انسان کے کهلم کهلا دشمن کے عنوان سے معرفی کیا هے اور انسان کو تاکید کرتا هے که اسے اپنا دشمن جان لے۔
نفس اماره، ابلیس کے پیغام اور فر مان کو، جو ظاہری برائیوں پر مشتمل ہو تا ہے ، پهنچا تا ہے- اس لحاظ سے نفس اماره خود بہی شیطان کا سپاہی شمار ہو تا ہے- چنانچہ اس کے بہت سے اوصاف ، شیطانی سپاہی میں شمار ہو تے ہیں پس انسان میں موجود حیوانی رجحانات کے پیش نظر نفس اماره شیطانی وسوسوں کے تحت قرار پاتا ہے اور مرحلہ به مر حلہ آگے بڑھتا ہے، یہاں تک انسان بهی شیطان کاکا رکن بن جاتا ہے۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Categories: Articles

Al Furqan Healthcare

Islamic Education and training to save yourself from Spiritual Diseases, Envy Diseases, Psychological Diseases & Diseases by Giants and the Magic

%d bloggers like this: