نیند کے فالج (سلیپ پیرالایسز )

Published by Al Furqan Healthcare on

5
(30)

ڈر اور خوف انسانی زندگی کے ایسے دو پہلو ہیں کہ جن کا سامنا کرنا ہر انسان کے لیے لازم و ملزوم ہے۔یہ خوف اور ڈر مختلف چیزوں اور مختلف وجوہ کی بنا پر ہوتا ہے۔ انسانی زندگی کے کچھ خوف ایسے ہیں کہ کسی تدبیر کا سہارا لے کر ان سے پہلو تہی کی جا سکتی ہے لیکن کچھ خوف ایسی نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جن کے سامنے کوئی انسانی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ اسی طرح کا ایک خوف نیند اور خواب کے تال میل کی پیداوار ہے۔ یہ خوف اس انتہا کو پہنچ جاتا ہے کہ انسان اپنے بستر سے خوف محسوس کرنے لگتا ہے اور بھرپور کوشش کرتا ہے کہ اسے نیند نہ آئے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جیسے ہی اس کی آنکھ کو نیند بند کرے گی تو کوئی انجانی مخلوق اس کو موت کے دروازہ پر لے جائے گی۔

آدھی رات کو کیا آپ نے خود کو ایسی کیفیت میں پایا ہے کہ جیسے کوئی آپ کے سینہ پر سوار ہے اور آپ کا گلا دبا رہا ہے۔ آپ کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ آپ اتنے خوف زدہ ہیں کہ لاکھ کوشش کے باوجود اس چیز کو خود سے دور نہیں کر پا رہے اور اتنے لاچار ہیں کہ پوری کوشش کے باوجود ساتھ سوئے ہوئے انسان کو اپنی مدد کے لیے نہیں پکار پا رہے۔ اسی طرح نیند میں اچانک آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ اپنے کمرے میں اکیلے نہیں بلکہ ایسی مخلوق بھی موجود ہے جسے آپ دیکھ نہیں سکتے اور یہ مخلوق آپ کو مار دینا چاہتی ہے۔ یہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ پاؤں شل ہو جاتے ہیں۔ یہ مخلوق آہستہ آہستہ آپ کی طرف بڑھ رہی ہے اور آپ اپنی پوری توانائی استعمال کرکے بھی اس کو دور نہیں کر پا رہے اور نہ ہی کسی اور شخص کو اپنی مدد کے لیے بلا پا رہے ہیں۔ اس کیفیت سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ ایک خوف ہے، ایک نہ دکھائی دینے والی مخلوق ہے جو آپ کو مار دینا چاہتی ہے۔ پھر اچانک یوں ہوتا ہے کہ آپ کے شل جسم میں ہلکی سی حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ مخلوق کہیں چھپ جاتی ہے اور آپ خوف کی حالت میں بیدار ہو جاتے ہیں۔ آپ کا جسم خوف سے لرز رہا ہوتا ہے۔ آپ کو اپنے جسم میں کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے ساتھ یہ واقعہ ایک دو بار نہیں بلکہ بار بار ہوتا ہے اور آپ اس کیفیت سے اتنے ڈر جاتے ہیں کہ آپ نیند سے بچنے کے لیے ادویات کو استعمال کرنا شروع کرتے ہیں تاکہ آپ اس خوفناک مخلوق سے خود کو دور رکھ سکیں جو سوتے ہی آپ کے بستر کے قریب سے نمودار ہو جاتی ہے۔ انسان کی نیند سکون کی بجائے موت اور خوف کی علامت بن جاتی ہے۔

نیند ہر انسان کے جسم کی ضرورت ہے۔ نیند کے بنا انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد انسان کی سب سے بڑی خواہش ایک پرسکون نیند ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ نیند موت سے بدتر محسوس ہوتی ہے۔ جیسے ہی آنکھ میں نیند کا خمار طاری ہوتا ہے تو کمرے کے کسی کونے سے کوئی مخلوق خود کو ظاہر کر دیتی ہے جو پوری کوشش کرتی ہے کہ آپ کو عارضی نیند نہیں بلکہ ابدی نیند سلا دے۔ اس کیفیت سے دوچار ہونے والا انسان خود سے سوال کرنے لگتا ہے کہ کیا نیند میں کسی بری روح یا مخلوق نے اس پر حملہ کیا تھا۔ کیا میری نیند مجھے ان مخلوقات کے حوالے کر دینا چاہتی ہے تاکہ یہ مخلوقات اسے اذیت دے سکیں۔

انسانی زندگی کے اس خوفناک پہلو کو کئی نام دیئے گئے ہیں۔ خوف کا یہ عنصر نیا نہیں ہے بلکہ صدیوں سے موجود ہے۔ دنیا کے ہر ملک اور عقیدہ میں اس کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ اس خوف سے متعلق عجیب داستانیں بیان کی جاتی ہیں کہ کس طرح یہ خوف انسانی زندگی کے ساتھ کھیلتا ہے اور ایک صحت مند خوش شکل انسان کو جسمانی اور ذہنی مریض بنا کر رکھ دیتا ہے اور اسے خوبصورتی سے محروم کر دیتا ہے۔


اس خوف کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب سوتے میں جسم اور دماغ کا ایک دوسرے سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے کمرے میں چھپی یہ وحشتناک مخلوقات اسی لمحہ کے انتظار میں رہتی ہیں کہ کب انسان کا نیند میں جسم اور دماغ کا ربط ختم ہو اور ہم اس پر حملہ آور ہو جائیں اور اس کی نیند کے ذریعے اس کی زندگی کو عذاب بنا دیں۔ جدید تحقیق میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ جہاں جاگتے میں بھی ایک لمحہ کے خمار نے اس مخلوق کو اپنی طرف متوجہ کر لیا اور پھر اس انسان پر شدید خوف کا حملہ ہو گیا۔ نیند کے دوران جب یہ حملہ ہوتا ہے تو انسانی دماغ پوری طرح سے بیدار ہوتا ہے لیکن جسم مکمل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ کوئی غیر مرئی قوت اسے مار دینا چاہتی ہے۔

قدیم اکادین، سمیرین اور یونانی تہذیب میں نیند میں موت کی اس کیفیت کو ”ناہیما” نامی ایک شہزادی سے منسوب کیا جاتا تھا جو درحقیقت ایک چڑیل تھی۔ دینا کی ہر تہذیب اور عقیدہ اس موت نما نیند کو شیطانی قوتوں سے جوڑتا ہے۔ عرب دنیا میں اسے “جاثوم” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عرب تہذیب میں جاثوم ایک شیطان یا عفریت ہے جو سوئے ہوئے انسان پر حملہ آور ہوتی ہے اور اس کا گلہ دباتی ہے تاکہ انسان کا سانس رک جائے۔

برصغیر میں نیند کی اس اذیت نما کیفیت کو شیطان،بدروح اور جنات سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ شیطانی ارواح نیند میں انسان کا گلہ دباتی ہیں۔ کشمیری روایات کے مطابق یہ عفریت یا سایہ ہر گھر میں ہر وقت موجود ہوتا ہے اور یہ اس وقت ظاہر ہوتا ہے اور لوگوں پر حملہ کرتا ہے جب گھروں میں مستقل عبادت ترک کر دی جائے یا گھروں میں صفائی کو خاص اہمیت نہ دی جاتی ہو۔

فارسی بولنے والے علاقوں میں اسے “بختک” کہا جاتا ہے۔ بختک ایک شیطان ہے جو سونے والے کے سینہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اس کا گلہ دباتا ہے۔

جدید یونان میں اس کیفیت کو جنات سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یونانی لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سوتے میں جب ان پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے تو انھیں اپنے سینے پر بیٹھا ایک ایسا سایہ دکھائی دیتا ہے جو ان کے بولنے کی قوت کو سلب کر لیتا ہے۔ اس دوران انھیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے ان کو پھانسی کے رسہ پر لٹکا دیا ہے۔

جرمن معاشرہ میں نیند میں موت کی حالت پیدا کرنے والی عفریت کو ”ایلپ” کا نام دیا جاتا ہے۔ ایلپ اکثر خواتین پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ایلپ مختلف شکلیں بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اپنی اصلی صورت کے علاوہ یہ بلی،کتا،سانپ،سور اور سفید تتلی بن کر حملہ آور ہوتا ہے۔ اس کا وزن اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ خواب میں انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی چیز کے وزن سے اس کی پسلیاں ٹوٹ رہی ہیں۔

ملائشیا میں نیند میں حملہ آور ہونے والی اس مخلوق کو ”ہانتو اورنگ میناک” کہا جاتا ہے۔ جب انسان سو رہا ہوتا ہے تو ایک ایسا مرد اس پر حملہ آور ہوتا ہے جس کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور اس نے اپنے جسم پر تیل لگا رکھا ہوتا ہے۔ یہ مخلوق اپنے جسم پر تیل اس لیے لگا لیتی ہے کہ اسے کوئی پکڑ نہ سکے۔

جاپان میں لوگوں کا اس بات پر یقین ہے کہ ”کاناشیباری” ایک ایسی مخلوق ہے جو سوئے ہوئے انسان پر مختلف جسمانی اور ذہنی عذاب لے کر نازل ہوتی ہے۔ جاپان میں اس بات پر عقیدہ ہے کہ اس مخلوق کو جادو کے ذریعے بھی کسی انسان پر مسلط کیا جا سکتا ہے اور یہ عفریت انسان کے سونے کا انتظار کرتی رہتی ہے۔ سانس گھٹنے کے ساتھ عجیب و غریب آوازوں کا آنا اور جسم میں درد کا احساس اس مخلوق کے حملہ کی نشاندہی کرتی ہے۔

ہندو مذہب میں ”رکشاسا” کو ایک ایسی عفریت تصور کیا جاتا ہے جو کہ سوئے انسان کو ضرر پہچانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ ”موہنی” نامی ایک عفریت کا نام بھی اسی موضوع پر لیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موہنی ایک نہایت خوبصورت عورت ہے جو رات کے وقت سوئے ہوئے مردوں کو اپنے قبضہ لینا چاہتی ہے تاکہ ان سے وہ اپنی اولاد پیدا کر سکے۔

دنیا میں ہر مذہب اور عقیدہ میں ایسی کئی مخلوقات کا ذکر موجود ہے جو انسان کو اس کی نیند میں یا تو موت دیتی ہیں یا پھر سوئے ہوئے مرد یا عورت کو اپنے شیطانی مقاصد کے لیے قابو کرنا چاہتے ہیں۔ جدید طب میں اسے نیند کا فالج یا ”سلیپ پیرالیسز” کا نام دیا گیا ہے۔

تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی ایسا فرد ضرور موجود ہوتا ہے جو نیند کے فالج کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اکثر گھر والے اس معاملہ کو صرف اتنی ہی توجہ دیتے ہیں کہ سوتے میں ڈر جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کیفیت سے دوچار انسان اپنے گھر والوں سے اس مسئلہ کو چھپاتا ہے اور خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار کر لیتا ہے۔


اس مسئلہ پر تحقیق کرنے والے دو الگ الگ نظریات رکھتے ہیں۔ ایک گروہ کا یہ ماننا ہے کہ نیند میں اس طرح کی کیفیت کا پیدا ہونا دراصل انسان کی کسی ایسی خواہش کا ادھورا رہ جانا ہے جسے وہ ہر حال میں مکمل دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ نیند میں اس کیفیت کا تعلق انسان پر پڑنے والے ذہنی دباو اور پریشانیوں سے ہے۔

طب میں اس کی جو وجوہات بیان کی جاتی ہیں ان کے مطابق نیند میں حملہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب سونے والا نیند میں داخل ہوتے وقت یا نیند سے باہر آتے وقت آنکھوں کی حرکت سے محروم ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک یہ وقت اس کیفیت کو پیدا کرنے کا سب سے بڑا عنصر ہوتا ہے۔ اس وقت انسان کا ذہن اور جسم ایک دوسرے سے رابطہ کھو بیٹھتے ہیں اور خوابیدہ انسان کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے کسی جن بھوت نے اس پر حملہ کر دیا ہے۔

کئی لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا نیند کا فالج موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اس موضوع پر بھی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ کے نزدیک نیند کافالج صرف جسم کو وقتی طور پر بےحرکت کر دیتا ہے اور موت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ دوسری رائے کے مطابق نیند کا فالج موت کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے لیے وہ انسانی تاریخ سے کچھ واقعات کو بیان کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ ”مونگ” قبیلہ کا ہے۔ یہ لوگ چین،ویت نام،لاوس اور تھائی لینڈ میں پائے جاتے ہیں۔ انیس سو اسی 1980 کی دہائی میں اس قبیلہ کے کچھ لوگ امریکہ آ کر آباد ہوئے۔ امریکی حکومت نے انہیں ایک پناہ گزین کیمپ میں جگہ دی۔ ان میں کل 117 مرد تھے جن میں سے 116 صحت مند انسان تھے جبکہ ایک کچھ بیمار تھا۔ ایک ایک کر کے ان 116 افراد کی موت ہو گئی۔ ان کی عمریں30 سے 33 سال کے درمیان تھیں۔ ان سب 116 مردوں کی موت نیند کے دوران ہوئی۔ کوئی ایسی قوت تھی جو ان کے سونے کا انتظار کرتی رہتی تھی اور جیسے ہی نیند ان پر طاری ہوتی یہ قوت ان کو موت کی وادی میں دھکیل دیتی۔ ان مرنے والی کی موت کی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو ان اموات کی تحقیق کے لیے بیھجا گیا۔ لیکن ڈاکٹروں کو کوئی طبی وجہ سمجھ نہیں آئی لہذا انھوں نے یہ رائے دی کہ ان تمام افراد کی موت کا سبب اچانک ایسے ناقابل فہم حالات کا پیدا ہو جانا ہے جنھوں نے ان کو نیند میں موت دے دی۔


اس پر جب مزید تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ مرنے والے تمام مونگ افراد روحوں پر ایمان کی وجہ سے مرے۔ مونگ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی فرد یا گروہ اپنی عبادات ترک کر دیتا ہے اور قربانی نہیں دیتا تو پھر وہ روحیں جو اس انسان کی حفاظت کرتی ہیں وہ خود کو اس انسان سے دور کر لیتی ہیں جس کے نتیجہ میں نیند کے دوران کچھ ایسی ارواح اس انسان پر حملہ آور ہوتی ہیں جو ان کے جسم اور روح پر اپنا قبضہ چاہتی ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کو موت آ جائے لہذا اپنے تلسط کے لیے کہ یہ ارواح سوئے ہوئے انسان کو موت دے دیتی ہیں۔
نیند میں فالج کا حملہ ہونے کی طبی اور روحانی دونوں وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس کیفیت سے گذرنے والے کی جسمانی اور روحانی صحت کے متعلق آگاہی ہو۔ اگر جسمانی علاج سے یہ مرض دور ہوجاتا ہے تو اچھی بات ہے لیکن اگر یہ کیفیت برقرار رہتی ہے تو پھر اس کا روحانی علاج ضروری ہے۔

اسلامی کتب میں ہمیں نبی کریم صل اللہ عیلہ و آلہ وسلم کی ایسی کئی دعائیں ملتی ہیں جو رات کو سوتے وقت اپنے تحفظ کے لیے پڑھنی چاہییں۔


*  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ سونے سے قبل اپنے بستر کو تین بار جھاڑ لینا چاہئے۔

* نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کے مطابق سونے سے قبل باوضو ہو کر سونے کا حکم دیا گیا ہے

* نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوتے ہوئے دائیں کروٹ پر لیٹنے کا حکم بھی دیا ہے۔

* آیت الکرسی اور معوذتین پڑھ کرہاتھوں پر دم کرکے جسم پر پھیرنا چاہئے۔

* سونے کی دعئیں پڑھ کر سونا چاہئے۔

اسی طرح حضرت براء بن عاذب ؓ نے فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ جب بستر پر آتے تو داہنی کروٹ پر سوتے تھے (بخاری شریف و ترمذی)۔ حضور ﷺ عام طور پر دائیں کروٹ پر آرام فرماتے تھے اور دایاں ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے ہوتا ۔ یہ تھا طریقہ نبی کریم ﷺ کے سونے کا اوراسی کی ترغیب آپ ﷺ نے صحابہ اکرام کو دی تھی ۔ آئیے اب جانتے ہیں کہ اس انداز سے سونے کی سائنسی اہمیت کیا ہے ؟
نیند کا قلب پر اثر
دائیں کروٹ پر سونے سے قلب (دل)پر زیادہ زور نہیں پڑتا ،کیونکہ دوران خون کے عمل کے وقت ،قلب کے بائیں طرف کا حصہ دائیں کروٹ ہونےکی حالت میں،بائیں طرف اوپر ہوتا ہے ،اسے خون کو پمپ کرنے میں زور نہیں لگانا پڑتا جس سے قلب پر کم دباؤ پڑتا ہےا ور خون قلب سے نکل کر جسم میں آسانی سے گردش کرتا ہے ۔
معدہ پر اثر
ہم جب کھانا کھاتے ہیں تو وہ غذا ،منہ سے کھانے کی نالی (Esophagus)سے معدہ (Stomach) میں آجاتی ہے ۔معدہ سے لگ کر ایک آنت کا حصہ (Duodenum)اور ساتھ میں پتہ (Gallbladder) ،جگر سے ملتا ہے ۔دائیں طرف یہ اعضاء ہونے کی وجہ سے ہم داہنی کروٹ لیٹتے ہیں تو معدہ کے اندر کی غذا آسانی سے آنت میں آجائے گی ۔اس کے بعد نظام ہضم کے عمل میں جگر ،پتہ اور دوسری آنتیں حصہ لے گی،یہ تمام کام دائیں جانب کروٹ لینے کی وجہ سے آسانی سے سرانجام پاتا ہے ۔ غرض کہ دائیں کروٹ پرلیٹنے سے نہ تو نظام ہضم پر زور پڑتا ہے اور نہ ہی قلب پر دباؤ پڑتا ہے ۔یہ دونوں عمل ٹھیک ہونے کی وجہ سے پھیپھڑے بھی صحیح طریقے سے عمل تنفس کا کام سرانجام دیں گے اورا س کے ساتھ ہی ساتھ انسانی جسم کے باقی اعضاء بھی صحیح کام کریں گے ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?

Categories: Articles

Al Furqan Healthcare

Islamic Education and training to save yourself from Spiritual Diseases, Envy Diseases, Psychological Diseases & Diseases by Giants and the Magic

0 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: